ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے کی غرض سے کیا گیا حملہ رات نصف شب (رات کی تاریکی) نہیں ہوا۔ اندازوں کے برعکس یہ حملہ صبح کی روشنی میں ہوا۔
صبح کی روشنی میں حملے کرنے کی وجہ وہ اہم خفیہ اطلاع تھی جو امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس کو چند گھنٹے قبل ہی موصول ہوئی تھی۔ امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس نے رات ہونے کا انتظار کیے بغیر اس خفیہ اطلاع کا فوری فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔امریکہ اور اسرائیل گذشتہ کئی ماہ اس موقع کی تلاش میں تھے کہ کب اعلیٰ ایرانی حکام کسی اجلاس میں شرکت کے لیے ایک جگہ اکٹھے ہوں گے۔ خفیہ اطلاع یہ تھی کہ سید علی خامنہ ای سنیچر کی صبح تہران کے مرکزی علاقے میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں موجود ہوں گے۔
خامنہ ای کی کمپاؤنڈ میں موجودگی کی اطلاع کے ساتھ ساتھ اسرائیلی اور امریکی انٹیلیجنس کو اس مقام کا بھی پتہ چل گیا تھا جہاں اُسی وقت دیگر ایرانی اعلیٰ فوجی اور خفیہ اداروں کے افسران کو اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہونا تھا۔امریکہ اور اسرائیل گذشتہ کئی ماہ سے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات خفیہ رکھی گئی کہ اُن پر نظر رکھنے کا طریقہ کار کیا گیا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس جانب اشارہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے لکھا کہ ’وہ (خامنہ ای) ہماری انٹیلیجنس اور نہایت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے میں ناکام رہے۔‘
یہ ممکن ہے کہ ایران میں موجود کوئی انسانی ذریعہ اُن کی نقل و حرکت کی اطلاع دے رہا ہو تاہم زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ اہم ایرانی عہدے داروں کی تکنیکی بنیادوں پر نگرانی کی جا رہی تھی۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے کی غرض سے کیا گیا حملہ رات نصف شب (رات کی تاریکی) نہیں ہوا۔ اندازوں کے برعکس یہ حملہ صبح کی روشنی میں ہوا۔
صبح کی روشنی میں حملے کرنے کی وجہ وہ اہم خفیہ اطلاع تھی جو امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس کو چند گھنٹے قبل ہی موصول ہوئی تھی۔ امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس نے رات ہونے کا انتظار کیے بغیر اس خفیہ اطلاع کا فوری فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔امریکہ اور اسرائیل گذشتہ کئی ماہ اس موقع کی تلاش میں تھے کہ کب اعلیٰ ایرانی حکام کسی اجلاس میں شرکت کے لیے ایک جگہ اکٹھے ہوں گے۔ خفیہ اطلاع یہ تھی کہ سید علی خامنہ ای سنیچر کی صبح تہران کے مرکزی علاقے میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں موجود ہوں گے۔
خامنہ ای کی کمپاؤنڈ میں موجودگی کی اطلاع کے ساتھ ساتھ اسرائیلی اور امریکی انٹیلیجنس کو اس مقام کا بھی پتہ چل گیا تھا جہاں اُسی وقت دیگر ایرانی اعلیٰ فوجی اور خفیہ اداروں کے افسران کو اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہونا تھا۔امریکہ اور اسرائیل گذشتہ کئی ماہ سے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات خفیہ رکھی گئی کہ اُن پر نظر رکھنے کا طریقہ کار کیا گیا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس جانب اشارہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے لکھا کہ ’وہ (خامنہ ای) ہماری انٹیلیجنس اور نہایت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے میں ناکام رہے۔‘
یہ ممکن ہے کہ ایران میں موجود کوئی انسانی ذریعہ اُن کی نقل و حرکت کی اطلاع دے رہا ہو تاہم زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ اہم ایرانی عہدے داروں کی تکنیکی بنیادوں پر نگرانی کی جا رہی تھی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں